Thursday, 22 June 2017

خدمت انسانیت کا سنہری موقع!

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

خدمت انسانیت کا سنہری موقع!
اللہ تعالیٰ اس کائنات کا خالق ہے ،و ہی اس کائنات کو چلاتا ہے ۔وہ آسمان سے زمین تک ہر معاملے کی تدبیر کرتا ہے۔  اس نے کمال شفقت کرتے ہوئے اپنی مخلوق میں فرق پیدا فرمایا۔ کوئی امیر ہے تو کوئی غریب تر،اگر یہ فرق نہ ہوتا تو کائنات ایک دم تھم جاتی۔مثلا اگر دنیا کا ہر فرد، دس دس کروڑکا مالک ہوتا تو مزدوری کون کرتا؟اور اگرسب دس دس ہزار روپے کے مالک ہوتے تو مزدوری کس کی کرتے؟لہذامعیشت کا یہ فرق اللہ تعالیٰ کمال حکمت وبصیرت کا مظہر ہے اور اللہ تعالیٰ مال دے کربھی آزماتا ہے اور محروم کرکے بھی ۔

غریبوں کی عید!

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

غریبوں کی عید!
روزانہ کی طرح آج بھی اس نے آتے ساتھ ہی اپنے اوزاردرست کیئے اور آج بھی وہ سخت گرمی میں روڈکنارے بیٹھاتھا تاکہ کوئی اسے مزدوری کے لیے لے جائے۔ اس کے گھر میں بیماری تھی اوربچوں کے کھانے کے لیے بھی صرف شام کاکھانا تھا اوروہ بھی اس قدر کے بچوں کوہی چند لقمے نصیب ہوتے اورغریب والدین کو پانی پرگزاراکرکے سونا تھا۔یہ اس کاروزانہ کا معمول تھا وہ یہاں آکر بیٹھ جاتا کبھی جلدی اورکبھی دیر سے اس کی باری آتی تھی،کیونکہ وہ اکیلا نہیں تھا بلکہ اس کے ساتھ اس کے اور مزدورساتھی بھی اس کے ساتھ یہاں پربیٹھا کرتے تھے۔

Tuesday, 30 May 2017

بغاوت


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
بغاوت
اس نے پوچھا:’’بغاوت کیا ہے؟‘‘ جواب ملا:’’سرکشی، دنگا، فساد،خون خرابہ، لڑائی‘‘اس نے پوچھا:’’انسان باغی کب بنتا ہے؟‘‘ جواب ملا: جب حقوق غصب کیے جاتے ہیں۔ جب مزدورکو پسینہ بہانے کے باوجود مزدوری نہیں ملتی۔ جب محنت کش کی محنت رائیگاں چلی جاتی ہے۔ جب کمزور کی کمزوری سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ جب امراء نشہ دولت میں مگن ہوکردنیا کی چمک دمک میں لگ جاتے ہیں۔ جب اہل عقل و ارباب کی عقل کا محور دولت ہوتی ہے۔

Monday, 1 May 2017

مزدورا ور حسن کائنات


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
مزدورا ور حسن کائنات
مزدوراس معاشرے کی سب سے معز ز ہستی ہے۔ انہی سے یہ بلندوبالا فلک بوس عمارتیں قائم ہیں، انہی سے یہ پرشکوہ مینار قائم ہیں، یہی تو اس ارض حسین کے حسن کواپنا پسینہ بہا کر چارچاندلگاتے ہیں،یہی توکائنات کی چکاچوندیوں میں حسن کے مالا جڑتے ہیں۔اگرچہ بعض لوگ کہ مال جن کے خیالات کو ،متشر کرکے تکبر میں مبتلا کردیتا ہے وہ اس کمزور ترین مخلوق کو کوئی حیثیت نہیں دیتے مگر انہیں شاید معلوم نہیں کہ حسن کائنات کی مورتیوں میں اس مزدور کا کردار بہت اہم ہے۔

Sunday, 26 March 2017

عبادات میں انتہاپسندی کے نقصانات


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عبادات میں انتہاپسندی کے نقصانات

اسلام دین فطرت ہے اوراللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ دین ہے۔اس کی بنیاد کلمہ طیبہ پر رکھی گئی ہے۔دین اسلام میں جتنے بھی اوامر ونواہی کاانسان کو مکلف بنایا گیا ہے ان میں اعتدال کو پسندکیاگیا ہے۔اعتدال کے ساتھ اس امت کو امتیاز حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس امت کا تذکرہ کرتے ہوئے جو الفاظ استعمال کیے وہ کچھ یوں ہیں :
وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا (البقرة:143)
’’امۃ وسطا‘‘ کہ یہ معتدل (بہترین )امت ہے۔لغت کی کتاب ’’القاموس الوحید‘‘میں ’’وسطا ‘‘کے معانی کچھ یوں مذکور ہیں’’ہر معتدل و متوسط شے،عدل وانصاف،منتخب وبہتر ‘‘ اسی طرح لغت کی کتاب المنجد میں بھی اس کے معانیٰ کچھ یوں مذکور ہیں’’الوسط،معتدل مثلاً کہا جاتا ہے 

23مارچ 1940؁ء اس عظیم عزم کی ’’تشکیل نو‘‘ کی ضرورت


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

23مارچ 1940؁ء اس عظیم عزم کی ’’تشکیل نو‘‘ کی ضرورت 

کسی بھی ملک کے معرض وجود میں آنے کا سبب ایک خاص فکر،سوچ،نظریہ ہوتا ہے۔اولاًوہ نظریہ مخصوص اذہان میں نمو پاتا ہے۔ بعدازاں اس کی تشہیر کی طرف توجہ دی جاتی ہے۔تاکہ اسے لوگوں کے ذہنوں میں بٹھاکر مقاصد کے حصول میں کامیابی حاصل کی جاسکے۔اس لیے اس نظریے کی تشہیر کی جاتی ہے اورعوام الناس کے رگ وپہ میں اس کوبسانے کی تگ ودوکی جاتی ہے۔جب بندوں کابنایا ہوا وہ مخصوص نظریہ لوگوں کی فکروسوچ میں راسخ ہوجاتا ہے ،تب اس نظریے کے حاملین اپنے لیے ایک خودمختار مملکت،خطہ،سرزمین،وطن وریاست کے قیام کی کوششوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔آخرکاراس منظم طرزعمل کی وجہ سے وہ بہت جلد اپنے مقاصد کے حصول میں سرخروٹھہرتے ہیں۔

Monday, 13 March 2017

محمدبن قاسم (ایک عظیم نوجوان سپہ سالار)


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

محمدبن قاسم (ایک عظیم نوجوان سپہ سالار)

جوانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم نعمت ہے۔جوانی میں انسان کا عزم بلند،ارادے پختہ،جذبہ جوان،کچھ کرگزرنے کی تمنا ہر نوجوان مطمع نظر ہوتی ہے۔مگر اس میں کامیابی صرف انہی جوانوں کو ہوتی ہے کہ جو جوانی کے مقاصد سے بابہرہ اوراس نعمت عظمیٰ کی قدر کرتے ہوں۔وگرنہ کتنے ہی جوان اس جوانی کو دنیا کی چکا چوندیوں میں برباد کرتے نظر آتے ہیں ۔خصوصاً اس نام نہاد ترقی کے دور میں تو ہر جوان کا مطمع نظر یورپ وامریکہ نظر آتا ہے۔سرمائے کی تمنا میں وہ ساری زندگی ڈگری کے حصول کے لیے برباد کرکے چند ٹکوں کا مالک بن کر یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کے حصول میں کامیاب ٹھہر چکا ہے۔